Message of Felicitation of the Esteemed Amir-ul-Momineen (May Allah protect him) on the Occasion of the Eid-ul-Odha


عیدالاضحی کی مناسبت سے عالیقدر امیرالمومنین ملامحمد عمر مجاھدحفظہ اللہ کا پیغام

الحمدللّٰہ رَبّ العلمین والصلوۃ والسّلام علی سیّدالکونین اشرف الانبیاء وقائدالمجاہدین نبیّنا محمد المصطفی صلّی اللہ علیہ وسلّم وعلی الہ وصحبہ اجمعین امابعد فأعوذباللہ من الشَّیطان الرجیم:

 إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ فَسَیُنْفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُونَ وَالَّذِینَ کَفَرُوا إِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُونَ۔ (الأنفال۳۶)

بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو  اس لیے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں،سویہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے(مگر)پھر وہ مال ان کے حق میں باعث ِحسرت ہوجائیں گے،پھر(آخروہ)مغلوب بھی ہوجائیں گے۔

اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیمَ یا بَنِی إِسْرَائِیلَ إِنِّی رَسُولُ اللَّٰہِ إِلَیکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَینَ یدَیَّ مِنَ التَّوْرَاہ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ (سورۃ الصف۶)

اور اسی طرح(وہ وقت بھی قابلِ تذکرہ ہے)جبکہ عیسی بن مریم نے فرمایا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توراۃ آچکی ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہے جن کا نام (مبارک)احمد ہوگا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔ صدق اللّٰہ العظیم

میں افغانستان کے مسلمان عوام، حملہ آور غاصبوں سے برسرپیکاربہادر مجاہدین، شہداء کے ورثاء ، معذورین ، حجاج کرام اور دنیا کے گوشے گوشے میں رہنے والے ہر مسلمان کوا یثار ،قربانی اور خوشی کے اس عظیم دن کی مبارک بادپیش کرتا ہوں ۔ اور میرا اللہ بزرگ وبرتر سے سوال  ہے کہ  وہ ان  ایام کو  خوشی،اطمینان  اور امتِ مسلمہ کی سرفرازی کا ذریعہ بنادے۔اور میری طرف سے اس سال کی عظیم الشان مجاہدانہ  عسکری کامیابیوں   پراپنی غیرت مندعوام اور سرفروش مجاہدین کو خصوصی مبارکباد  پیش ِخدمت ہے۔اور میں اللہ  تعالی سے دعاگوہوں کہ ہم سب کو استقامت کی دولت سے نوازے، اسی طرح میری  اللہ سے تعالی دعا ہے کہ  ہماری مظلوم عوام کو اس ناجائز تسلط  کے شر سے خلاصی عطاء فرمائے ۔ان شاء اللہ یہ  نصرت کے لمحات  قریب  ترہیں ۔

میرے محترم مجاہد بھائیو! آپ اس بات کے بخوبی  شاہد ہیں کہ مجاہدین کی صفیں آئے روزمضبوط ہورہی ہیں، اورملک کے طول وعرض میں بہادر عوام کی جانب سے مجاہدین کے ساتھ تعاون اورمجاہدین کے شانہ بشانہ قربانیوں میں اضافہ ہورہاہے۔اور غاصب  و مکار حملہ آوروں کے  بڑے بڑے ٹھکانوں پر  نت نئےجہادی اندازسے حملے کیے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ  دشمن  اپنےاڈے اور چھاؤنیاں  مجاہدین کے خوف سے خالی کررہاہے۔اور اسی طرح  دشمن کے قائم کردہ اداروں کے اندر سے ہی مسلمان فوجیوں کی طرف سے ہونے والے خطرناک اور تابڑتوڑ حملے بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔اور شعبہ  دعوت وارشاد کی کاوشوں سے دشمن کی صفوں میں سے ایک اچھی خاصی تعداد انھیں  جُل دے کر امارت اسلامیہ سے آمل رہی ہے ۔

 اس کے مثل اور بہت سی کامیابیاں جو ہمیں حاصل ہورہی ہیں ، ان پراللہ تعالیٰ  کا  شکر اداکرنا ہم سب   کے لیے لازم ہے۔تاکہ  اللہ تعالیٰ کی مزید توفیق اہداف کے حصول میں ہمارے شامل ِحال ہوسکے۔ہمارے لیے ضروری ہےکہ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالی سے  مزید توفیق کا سوال کریں  اور اس عہدو وفا کو لازم پکڑیں  جو اپنی توقعات اور جہادی اہداف کے حصول کے لیےاپنائے ہوےہیں ۔ اورہم اپنے نفس کےغرور میں مبتلاء  نہ ہوں اور نہ ہی جہادی اہداف اور اس مقدس راستے کی پیروی سے لاپر واہی برتیں۔

 اسی واسطے  ہم پر واجب ہے کہ  تمام معاملات میں اللہ  تعالی کی رضاء ، امیرکی اطاعت ،  دیے گئےجہادی لائحہ عمل کی پیروی،اسلامی نظام  کے قیام کے لیے جدوجہد اور افغان عوام کی خوش بختی کو  اپنے جہادی اہداف کا لازمہ سمجھیں۔ کیونکہ  ہماری قوم جس کا میں اور آپ بھی حصہ ہیں گذشتہ تیس سال سے زائد عرصے سے سخت کرب ومصیبت میں مبتلا ءاور زخموں سے چورہے ۔ ہم سب  پر اس قوم  کاحق ہے کہ ان کے ساتھ مہربانی ، ملائمت اور خوش خلقی سے پیش آئیں  اور ان کے  لیے اپنے سینوں کو کشادہ رکھیں۔ اس لیے کہ اس قابل فخر قوم کے ایثار اور قربانیوں   ہی کے نتیجے میں   ہم اس قابل ہوئے  ہیں کہ اتنے بڑی  قوت اور مغرورعسکری طاقت کے سامنے گیارہ سال سےمضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے ہیں اور دشمن ہر جگہ شکست سے دوچار ہے۔

لہٰذا ہمیں اس قوم کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے۔ اور خوب جان لوکہ دشمن کے مقابلے میں نصرت و کامیابی  اولاً تو اللہ تعالی کی مدد اورثانیاً اپنے عوام کے  تعاون ہی سے ممکن  ہوتی ہے ۔  امارت اسلامیہ کے تمام  ذمہ داران اور منتسبین  پر لازم ہے  کہ  آپس کا اتحاد اور محبت کے رشتے مزید مضبوط کریں اورفرقہ بازی واختلافات سے خود کو محفوظ رکھیں۔    جہادی معاملات  کو استحکام و مشاورت سے سر انجام دیں ،اور دشمن کی شکست اور تباہی کے لیے جدید منصوبے مرتب کریں اور انھیں بخوبی  عملی جامہ پہناتے رہیں ۔اور اسی طرح  ان پریہ بھی لازم ہے کہ عام لوگوں کے لیے آسانیاں پیداکریں، ا ورشہریوں کو مشکلات میں ڈالنے سے حتی الامکان گریز کریں ۔ اس لیے کہ دشمن ہمیشہ  سے بذات خود پہنچائے گئے عوامی نقصانات  کو مجاہدین کے کھاتے میں ڈالنے کی  بھرپور کوشش کرتا چلا آرہاہے۔

اور تمام مجاہدین پر لازم ہے کہ دشمن کی  صفوں  اور اس کے فعال  اداروں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی حسب استطاعت اور بھرپور کوشش  کریں، ان شاء اللہ ان حربوں سے مستقبل میں  اچھے نتائج مرتب ہوں  گے۔اور میں مجاہدین کے ذمہ داران کو وصیت کرتا ہوں کہ مجاہدین کی تعلیم کا  اچھی طرح اہتمام کریں  اورانھیں  جہاد سے متعلق ضروری مسائل سکھائیں۔اور ان کی  اخلاقی ، تعلیمی ، فکری  تربیت کے انتہائی اہتمام  کوعسکری تربیت کا لازمی حصہ سمجھیں۔ اسی طرح میری تمام مسؤلین  کو وصیت ہے کہ یتیموں ، معذوروں اور قیدیوں کی دستگیری  کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں ۔ اور یہ بات ذہن نشین  رہے کہ  دینی مصالح کے خلاف اعمال اورجذبات کے بہاؤپربے سوچے سمجھے کاموں کانتیجہ نہایت برا نکل سکتا ہے۔

اوراسی مناسبت سے ایک دفعہ پھر میں کٹھ پتلی حکومت کے صفوں میں شامل افغانوں کو  توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام اور قومی  مصالح کی خاطر مجاہدین کے ساتھ مخلصانہ تعاون کریں   اور قابضین سے ملک کو آزاد کروانے کے لیے جاری کوششوں میں  ان کے ساتھ  شریک ہوں ۔ بیشک دشمن ملیشیا اور افواج  کی اندرونی صفوں میں کی جانے واالے کارروائیوں کا شمار بڑے جہادی حربوں میں ہوتا ہے   ۔ اوران شاء اللہ ایسی کارروائیوں کا دائرہ  کاراب مزید وسیع ، منظم اور اثرات کے اعتبار سےدشمن کے لیے مزید خطرے کا باعث ہوگا ۔

 اورمیں ہر اس غیرت مند افغان سے جسے  قابض اور مقامی دشمن کی صفوں میں جہادکرنے کا موقع میسر ہے درخواست کروں گا کہ اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوےدین اور ملک کے دشمنوں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں کے اندرہی اپنے انجام سے دوچار کریں ۔اوران کی شکست و تباہی کے لیے سارے ممکنہ طریقوں، مواقع اور حربوں  کو بروئے کار لائیں، کیونکہ  جہاد سب پر فرض ہے اور اپنے ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حصول اس ملک کے ہر نوجوان کی دینی اورشعوری ذمہ داری ہے ۔اور مجاہدین پر لازم ہے کہ اس طرح کے کارنامے سرانجام دینے والے سپوتوں کو مزید قدر دانی ،اکرام  اور حوصلہ افزائی کے لیے  امارتِ اسلامیہ  کی قیادت سے متعارف کرائیں ۔

باقی اس ملک کی مستقبل کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے میں ایک مرتبہ  پھر کہوں گا کہ ؛ ہم نہ قبضہ گری  کی فکر میں  ہیں  اور نہ ہی غاصب حملہ آوروں کے کوچ کر جانے کے بعد  خانہ جنگی کا کوئی تصور رکھتے ہیں ۔ بلکہ ہماری کوشش  ہے کہ مستقبل کا سیاسی منظر نامہ بڑی عالمی طاقتوں اور پڑوسی ممالک کی مداخلت سے پاک ہو اور افغانوں کے ہاتھ میں ہو ۔ اور ہماری یہ کوششیں  خالص اسلامی اور افغانی  روایات کی حامل ہیں  ۔

اور آزادی کے بعد  اللہ رب العزت کی مددسے  ہم ایک ایسے شرعی اور قومی نظام حکومت میں ہوں گے جو ہر قسم کے نسلی امتیاز  اورتعصبات سے بالاتر ہوگا۔ ہر کام اس کے اہل کے سپرد کیا جائے گا اور  ملکی وحدت کا تحفظ  یقینی بنایا  جائے گا ۔ امن وامان کی صورت حال  میں بہتری لائی جائے گی ، شریعت   کا نفاذ ہوگا  اورچاہے مرد ہو یا عورت! ہر ایک کے حقوق  کی ضمانت دی جائے گی۔ملکی تعمیر نو اور معیشت کی بہتری کے لیے   بھرپوراقدمات کیے جائیں گے اور اجتماعی اداروں کی مضبوطی   ہمارےپیش نظر ہوگی۔ اسلامی اصولوں  اور ملکی مصالح کی روشنی میں بلا تفریق  تعلیمی سہولیات عام کی جائیں گی، علمی و ثقافتی معاملات کو  صحیح سمت میں چلایا جائےگا۔اوراپنے غیور عوام کے تعاون سے خانہ جنگی اور افغانستان کی تقسیم چاہنے والوں کو ان کے  مذموم مقاصد میں ہر گز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔

اور افغان عوام کو اتنااحمق نہ سمجھا جائے کہ وہ اپنے ہم قوموں سے عقیدے،تمدن  ، اجتماعی اور تاریخی بنیادوں پر قائم رشتے توڑ بیٹھیں گے  اور ملک کی تقسیم پر راضی ہوجائیں گے ۔ تقسیم کایہ ناپاک نسخہ سوویت یونین نے بھی آزما کر دیکھ لیا تھا،مگر نتیجہ برعکس نکلا اور ان کی چال ان پر ہی  الٹ دی گئی۔

ہم  ان تمام لوگوں سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جوایک خود مختاراسلامی  ملک کی حیثیت سے افغانستان کا احترام کریں  اوران کا تعلق   نوآبادیاتی، حاکمانہ اور استعماری لہجوں سے خالی ہو۔ میرے خیال میں یہی ہر آزاد اور مسلمان افغان کا مطالبہ اور اس کی خواہش  یہی ہے ۔

اور بیرونی قوتوں سے مفاہمت کے متعلق میں یہ کہنا چاہوں  گاکہ ؛ہم اسلامی اور قومی مفادات کے حصول کے لیے عسکری جد وجہد کے ساتھ سیاسی کوششیں بھی جاری رکھے ہوے ہیں ۔ اور ان سیاسی کوششوں کو کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے سیاسی دفتر کا قیام اور ایک خاص جماعت کا تین بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔ اور یہ سیاسی دفتر  ہمارے اسلامی  اور جہادی مصالح کو مد نظررکھتے ہوئے  خدمات انجام دیتا ہے ۔اور میں واضح طور پر کہہ دوں کہ ہمارے مذکورہ سیاسی دفتر کے علاوہ دوسروں سے مفاہمت کے لیے کوئی اور چینل نہیں ہے، اس لیے کہ   نہ توہم خفیہ سیاست کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں سے چاہیں گے کہ   وہ ہم سے  خفیہ مذکرات کا ڈول ڈالیں  ۔ ہماری دوسروں سے  وضع کردہ سیاسی مفاہمتی پالیسی دینی  اقدار، قومی اور وطنی   مفادات کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔ اور اس کا کھلے عام اعلان کیا جاتا ہے۔

اگر جارحین کی خفیہ ایجنسیاں  اورسفارتی حلقے  اپنے لیے مذاکرات کے بناوٹی اور فرضی  سلسلوں کو میڈیا میں شورشرابا کرتے ہیں  تو یہ  محض وقت کا ضیاع اور  اپنے آپ  کو اور اپنی  عوام کودھوکا دینے  مترادف ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ آزادی اور خود مختاری ہر کسی کا حق ہے۔ ہم پوری دنیا ، بین الاقوامی تنظیموں خاص طورپر اسلامی ممالک اور مؤتمر اسلامی سے امید رکھتے ہیں کہ ہماری اسلامی مملکت آزادی اور  بیرونی جارحیت کے  مکمل خاتمے کے لیے کردار اداء کریں ۔ اور  اپنی انسانی ذمہ داری سمجھتے ہوے  ہمارے قیدیوں کے لیے اٹھ کھڑے ہوں جو ابھی تک گوانتاناموبے ، بگرام ، دیگر عقوبت خانوں  اور اسی  ہمسایہ ممالک کی جیلوں میں مظلومیت کے دن گزاررہے ہیں ۔ اور ہم انسانی حقوق کی تنظیموں کو خصوصی طورپر ان مظلوم قیدیوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے  اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں  ، جن پر آئے روز تفتیش کے بہانے قیدخانوں میں تمام قوانین بالائے طاق رکھ کر تشدد کیا جاتا ہے۔دباؤاور تشدد کے بل بوتے پر انھیں اعترافات پر مجبور کیا جاتا ہےاور انہیں  بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھاجاتاہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سوں  کو دوران تحقیقات قتل کردیا گیا ہے اور بہت سے دائمی معذور ہوچکے ہیں۔

اور میں اسلام دشمنوں کی جانب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کی توہین پر مبنی فلم کی پرزور مذمت کرتاہوں اور اس بارے میں کہوں گا کہ ؛  اسلام دشمن دینِ اسلام کی حقیقی صورت مسخ کرنے کے لیے تو ہر طرح کی مذموم کوششیں کرچکے ہیں ، اور اب  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی  ذاتِ گرامی کو نشانہ بنانے کے لیے گھناؤنی حرکتوں پر اتر آئے ہیں ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس   میں  وہ کچھ کرچکے ہیں  کہ مسلمان تو درکنار ایک سلیم الطبع شخص کے لیے بھی یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے ۔  یہ مغرب ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور قرآنِ کریم کے نسخوں کو جلانااظہار رائے اورآزادی ء فکرباور کراتا ہے اور دوسری طرف  جو مسلمان اللہ تعالی کی کتاب سے جہاد کی آیتیں پڑھتے ،لوگوں کو ان کی تفسیر بتاتے ہیں اور اپنے حقِ آزادی کو  طلب کرتے ہیں  ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگاتا ہے ، انھیں قید کرتا ہے اور ان پر تشدد کو جائز سمجھتا ہے ۔ بیشک  دنیا میں اس مغربی فلم  کا بیہودہ چرچا ، تعصب کا پرچار ،اور ان کے تنگ نظری کے غماض اعمال ان کی رسوائی اور شرمندگی میں مزید اضافہ کریں گے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

 يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (8) (الصف)

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کا نور بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پُورا پھیلا کے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ اس گھناؤنے جرم پر محض زبانی احتجاج پر اکتفاء نہ کریں، بلکہ اپنے مقدس دین کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ، اور سنت نبویہ  -علی صاحبہا افضل الصلاة والسلام –  سے اپنی زندگیوں میں  مطابقت پیدا کریں  ۔ ایک دوسرے کے دست وبازو بن جائیں اورناجائز قبضے اور جارحیت کے خلاف  جہاد پر کمربستہ ہوجائیں؛

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآَخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (21) (الاحزاب)

تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو  اللہ اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر اللہ کرتا ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔(یعنی جہاد میں شرکت)

بیشک یاد رہے کہ ہم نے  کسی پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی زمین پر ہم نے قبضہ کیا ہے، ہم تو ان غاصبوں کے خلاف بھرپور انداز میں   جہاد جاری رکھے ہوے ہیں جو ہم پر جارحیت اور دھاوا بولے ہوےہیں  ۔ ہم نے گیارہ سال پہلے بھی دشمن سے کہا تھاان کا یہاں آنا تو آسان ہے لیکن یہاں رہنے یا واپس جانے میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہوگا ۔ آج ایسی ہی صورت حال  سے دشمن دوچار ہے ۔

ہمارے پاس جہاد جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں اور نہ ہی ہم حواس باختگی کا شکار ہیں  ، ہمیں اپنے  پروردگار  پر  پورا  یقین  ہے، اورہمارے پاس   اس کام کو جاری رکھنے کے لیے  وافرافرادی قوت موجود ہے۔ یہ ساری چیزیں ہم نے  نہ توکسی سے قرض لی ہیں اور نہ ہی  ہم کسی کے زیرا حسان ہیں ،حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ  اللہ  تعالی کا فضل ہی ہے۔  اور اللہ کے اذن سے ہی  ہم اپنی پوری کوشش اور تدابیر سے دشمن کے منصوبے خاک میں ملادیں گے ۔ ہمارا جہادی قافلہ اللہ کے فضل سے  اب ایسی منزل پر پہنچ چکا ہے کہ عالم اسلام کی وسیع حمایت ، عوامی ہمدردی اور مناسب وسائل کے حصول کے بعدہم اس قابل ہیں کہ مستقبل میں دشمن کو عسکری میدان میں ناقابلِ برداشت اورحیرت انگیز اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

 اب آخر میں تمام  خرچ کرنے والے اہل خیر حضرات اور اداروں  سے  مجھے امید ہے کہ  عید کے  ان مبارک ایام میں اپنے بچوں اور اہل خانہ کی طرح مجاہدین، مساکین اور خاص طور پر شہداء اورقیدیوں کے بچوں اور اہل خانہ پر  اپنی اولاد کی طرح شفقت   کا مظاہرہ کریں گے ۔ا پنا تعاون بذات خود ان تک پہنچائیں گے  یا امارت اسلامیہ کے اقتصادی کمیشن کے توسط سے  عید کی خوشیوں میں انھیں اپنے ساتھ شریک کریں گے ۔

ایک عشرے سے زیادہ امریکہ کی زیرِ قیادت کفریہ اتحاد  کے خلاف انتہائی شجاعت اور محبت کے ساتھ مجاہدین کا بھر پور تعاون کرنے پر میں افغانستان کے مومن ومجاہد عوام کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ سے اجر عظیم کا طالب ہوں ۔

  اللہ تعالی کے فضل اوراسی تعاون کے نتیجے میں ان شاء اللہ  جہاد کامیابی سے ہمکنار ہونے کو ہے۔ اسی طرح میں ان خاندانوں کے لیے اس عظیم رب کے دربار سے صبر جمیل ، استقامت اور بڑے اجر کا طلب گار ہوں جوجہاد کے مقدس راستے میں یادشمن کی اندھی بمباریوں میں شہادت سے سرفراز ہوگئے ہیں ۔ دشمن کے ہاتھوں قید ہوگئے ہیں یامالی مشکلات سے دوچار ہوے ہیں۔

 اللہ جل شانہ ان شہداء کے مبارک خون کی برکت سے ہماری قوم کو اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائے اوراس سرزمین پر اسلام کا پر چم لہرائے ۔ آمین یارب العالمین

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

والسلام خادم اسلام امیرالمؤمنین ملامحمد عمرمجاہد

۸/۱۱/۱۴۳۳  هق

۲۳/۱۰/۲۰۱۲  عیسوی

Explore Hassan on Net

Interest of Hassan

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s